Welcome to the New NetPakistani.Com

Please report any bugs to services@netpakistani.com

Welcome Guest!
Chat now!

Home : Community : Forums :

طلاق کے حوالہ پر قرآنی آیات معہ ترجمہ
Posted by CONAN

 طلاق کے حوالہ پر قرآنی آیات معہ ترجمہ [] December 27, 2011 06:14:32 AM
CONAN
BRISTOL, United Kingdom
Member since February 2007
View Profile View Blog Send Message

 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

 

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ وَاللاَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا 
( 4:34 )
مرد عورتوں پر محافظ و منتظِم ہیں
اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے
اور اس وجہ سے (بھی) کہ مرد (ان پر) اپنے مال خرچ کرتے ہیں،
پس نیک بیویاں اطاعت شعار ہوتی ہیں شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں،
اور تمہیں جن عورتوں کی نافرمانی و سرکشی کا اندیشہ ہو 
تو انہیں نصیحت کرو
اور (اگر نہ سمجھیں تو) انہیں خواب گاہوں میں (خود سے) علیحدہ کر دو 
اور (اگر پھر بھی اصلاح پذیر نہ ہوں تو) انہیں (تادیباً ہلکا سا) مارو،
پھر اگر وہ تمہاری فرمانبردار ہو جائیں
تو ان پر (ظلم کا) کوئی راستہ تلاش نہ کرو،
بیشک اللہ سب سے بلند سب سے بڑا ہے

 

 


وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُواْ حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلاَحًا يُوَفِّقِ اللّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا 
( 4:35 )
اور اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان مخالفت کا اندیشہ ہو
تو تم ایک مُنصِف مرد کے خاندان سے
اور ایک مُنصِف عورت کے خاندان سے مقرر کر لو،
اگر وہ دونوں (مُنصِف) صلح کرانے کا اِرادہ رکھیں
تو اللہ ان دونوں کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا،
بیشک اللہ خوب جاننے والا خبردار ہے

 

 


لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَآؤُوا فَإِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
( 2:226 )
پھر جو لوگ اپنی عورتوں کو چھوڑنے کا ارادہ کر لیں
ان کو چار مہینے تک انتظار علیحدگی کا دورانیہ کرنا ہے ۔
اگر (اس عرصے میں سے) رجوع کر لیں
تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

 

 


وَإِنْ عَزَمُواْ الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ 
( 2:227 ) 
اور اگر انہوں نے طلاق کا پختہ ارادہ کر لیا ہو 
تو بیشک ﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے

 

 


وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ وَلاَ يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُواْ إِصْلاَحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكُيمٌ 
( 2:228 )
اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں،
اور ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اسے چھپائیں جو ﷲ نے ان کے رحموں میں پیدا فرما دیا ہو،
اگر وہ ﷲ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں،
اور اس مدت کے اندر ان کے شوہروں کو انہیں (پھر) اپنی زوجیت میں لوٹا لینے کا حق زیادہ ہے اگر وہ اصلاح کا ارادہ کر لیں،
اور دستور کے مطابق عورتوں کے بھی مردوں پر اسی طرح حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر،
البتہ مردوں کو ان پر فضیلت ہے،
اور ﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے

 

 


الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُواْ مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلاَّ أَن يَخَافَا أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللّهِ فَلاَ تَعْتَدُوهَا وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللّهِ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ 
( 2:229 )
طلاق (صرف) دو بار (تک) ہے
پھر یا تو (بیوی کو) اچھے طریقے سے (زوجیت میں) روک لینا ہے 
یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے، 
اور تمہارے لئے جائز نہیں 
کہ جو چیزیں تم انہیں دے چکے ہو 
اس میں سے کچھ واپس لو 
سوائے اس کے 
کہ دونوں کو اندیشہ ہو 
کہ (اب رشتۂ زوجیت برقرار رکھتے ہوئے) دونوں ﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے،
پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں ﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے،
سو (اندریں صورت) ان پر کوئی گناہ نہیں
کہ بیوی (خود) کچھ بدلہ دے کر (اس تکلیف دہ بندھن سے) آزادی لے لے،
یہ ﷲ کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں، 
پس تم ان سے آگے مت بڑھو 
اور جو لوگ ﷲ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں سو وہی لوگ ظالم ہیں

 

 


فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ 
( 2:230 )
پھر اگر شوہر (خاوند کے ہاتھ کچھ دے کر رہائی چاہنے والی : حق مہر چھوڑ کر ) عورت کو طلاق دے دے 
تو اس کے بعد جب تک عورت ( خلع لینے والی ) کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے
اس ( پہلے شوہر ) پر حلال نہ ہوگی۔
ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے
اور عورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں 
تو ان پر کچھ گناہ نہیں
بشرطیکہ دونوں یقین کریں 
کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے 
اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے 
جو دانش رکھتے ہیں

 

 



 Re. طلاق کے حوالہ پر قرآنی آیات معہ ترجمہ [] December 27, 2011 06:19:56 AM
CONAN
BRISTOL, United Kingdom
Member since February 2007
View Profile View Blog Send Message

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلاَ تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لَّتَعْتَدُواْ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلاَ تَتَّخِذُواْ آيَاتِ اللّهِ هُزُوًا وَاذْكُرُواْ نِعْمَتَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِ وَاتَّقُواْ اللّهَ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ 
( 2:231 )
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو 
اور وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آ پہنچیں
تو انہیں اچھے طریقے سے (اپنی زوجیّت میں) روک لو 
یا انہیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو،
اور انہیں محض تکلیف دینے کے لئے نہ روکے رکھو 
کہ (ان پر) زیادتی کرتے رہو،
اور جو کوئی ایسا کرے 
پس اس نے اپنی ہی جان پر ظلم کیا،
اور ﷲ کے احکام کو مذاق نہ بنا لو،
اور یاد کرو ﷲ کی اس نعمت کو جو تم پر (کی گئی) ہے
اور اس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل فرمائی ہے 
اور دانائی (کی باتوں) کو (جن کی اس نے تمہیں تعلیم دی ہے) وہ تمہیں (اس امر کی) نصیحت فرماتا ہے،
اور ﷲ سے ڈرو 
اور جان لو کہ بیشک ﷲ سب کچھ جاننے والا ہے

 


وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْاْ بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ مِنكُمْ يُؤْمِنُ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ 
( 2:232 )
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو 
اور وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آپہنچیں
تو جب وہ شرعی دستور کے مطابق باہم رضامند ہو جائیں 
تو انہیں اپنے (پرانے یا نئے) شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو،
اس شخص کو اس امر کی نصیحت کی جاتی ہے
جو تم میں سے ﷲ پر اور یومِ قیامت پر ایمان رکھتا ہو،
یہ تمہارے لئے بہت ستھری 
اور نہایت پاکیزہ بات ہے، 
اور ﷲ جانتا ہے 
اور تم (بہت سی باتوں کو) نہیں جانتے

 

 


وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلََى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لاَ تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلاَّ وُسْعَهَا لاَ تُضَآرَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلاَ مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالاً عَن تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا وَإِنْ أَرَدتُّمْ أَن تَسْتَرْضِعُواْ أَوْلاَدَكُمْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُم مَّآ آتَيْتُم بِالْمَعْرُوفِ وَاتَّقُواْ اللّهَ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
( 2:233 )
اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس تک دودھ پلائیں 
یہ (حکم) اس کے لئے ہے 
جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے،
اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور پہننا دستور کے مطابق بچے کے باپ پر لازم ہے،
کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دی جائے،
(اور) نہ ماں کو اس کے بچے کے باعث نقصان پہنچایا جائے 
اور نہ باپ کو اس کی اولاد کے سبب سے،
اور وارثوں پر بھی یہی حکم عائد ہوگا،
پھر اگر ماں باپ دونوں باہمی رضا مندی 
اور مشورے سے (دو برس سے پہلے ہی) دودھ چھڑانا چاہیں 
تو ان پر کوئی گناہ نہیں،
اور پھر اگر تم اپنی اولاد کو (دایہ سے) دودھ پلوانے کا ارادہ رکھتے ہو
تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں
جب کہ جو تم دستور کے مطابق دیتے ہو 
انہیں ادا کر دو،
اور ﷲ سے ڈرتے رہو 
اور یہ جان لو 
کہ بیشک جو کچھ تم کرتے ہو ﷲ اسے خوب دیکھنے والا ہے

 

 


وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
( 2:234 )
اور تم میں سے جو فوت ہو جائیں 
اور (اپنی) بیویاں چھوڑ جائیں 
تو وہ اپنے آپ کو چار ماہ دس دن انتظار میں روکے رکھیں،
پھر جب وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آ پہنچیں 
تو پھر جو کچھ وہ شرعی دستور کے مطابق اپنے حق میں کریں 
تم پر اس معاملے میں کوئی مؤاخذہ نہیں،
اور جو کچھ تم کرتے ہو 
ﷲ اس سے اچھی طرح خبردار ہے

 

 

وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُم بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنتُمْ فِي أَنفُسِكُمْ عَلِمَ اللّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَـكِن لاَّ تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلاَّ أَن تَقُولُواْ قَوْلاً مَّعْرُوفًا وَلاَ تَعْزِمُواْ عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ 
( 2:235 )
اور تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں
کہ (دورانِ عدت بھی) ان عورتوں کو اشارۃً نکاح کا پیغام دے دو 
یا (یہ خیال) اپنے دلوں میں چھپا رکھو، 
ﷲ جانتا ہے کہ تم عنقریب ان سے ذکر کرو گے 
مگر ان سے خفیہ طور پر بھی (ایسا) وعدہ نہ لو 
سوائے اس کے کہ تم فقط شریعت کی (رُو سے کنایۃً) معروف بات کہہ دو،
اور (اس دوران) عقدِ نکاح کا پختہ عزم نہ کرو
یہاں تک کہ مقررہ عدت اپنی انتہا کو پہنچ جائے،
اور جان لو کہ ﷲ تمہارے دلوں کی بات کو بھی جانتا ہے 
تو اس سے ڈرتے رہا کرو، 
اور (یہ بھی) جان لو 
کہ ﷲ بڑا بخشنے والا بڑا حلم والا ہے

 


 Re- طلاق کے حوالہ پر قرآنی آیات معہ ترجمہ [] December 27, 2011 06:22:09 AM
CONAN
BRISTOL, United Kingdom
Member since February 2007
View Profile View Blog Send Message

لاَّ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنُّ أَوْ تَفْرِضُواْ لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ 
( 2:236 )
تم پر اس بات میں (بھی) کوئی گناہ نہیں 
کہ اگر تم نے (اپنی منکوحہ) عورتوں کو ان کے چھونے 
یا ان کے مہر مقرر کرنے سے بھی پہلے طلاق دے دی ہے
تو انہیں (ایسی صورت میں) مناسب خرچہ دے دو،
وسعت والے پر اس کی حیثیت کے مطابق (لازم) ہے
اور تنگ دست پر اس کی حیثیت کے مطابق،
(بہر طور) یہ خرچہ مناسب طریق پر دیا جائے،
یہ بھلائی کرنے والوں پر واجب ہے

 


وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إَلاَّ أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَن تَعْفُواْ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلاَ تَنسَوُاْ الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ 
( 2:237 )
اور اگر تم نے انہیں چھونے سے پہلے طلاق دے دی 
درآنحالیکہ تم ان کا مَہر مقرر کر چکے تھے
تو اس مَہر کا جو تم نے مقرر کیا تھا
نصف دینا ضروری ہے 
سوائے اس کے کہ وہ (اپنا حق) خود معاف کر دیں 
یا وہ (شوہر) جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے معاف کر دے (یعنی بجائے نصف کے زیادہ یا پورا ادا کر دے)، 
اور (اے مَردو!) اگر تم معاف کر دو تو یہ تقویٰ کے قریب تر ہے،
اور (کشیدگی کے ان لمحات میں بھی) آپس میں احسان کرنا نہ بھولا کرو،
بیشک ﷲ تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے

 

 


وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِّأَزْوَاجِهِم مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِيَ أَنفُسِهِنَّ مِن مَّعْرُوفٍ وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
( 2:240 )
اور تم میں سے جو لوگ فوت ہوں 
اور (اپنی) بیویاں چھوڑ جائیں 
ان پر لازم ہے 
کہ (مرنے سے پہلے) اپنی بیویوں کے لئے انہیں ایک سال تک کا خرچہ دینے (اور) اپنے گھروں سے نہ نکالے جانے کی وصیّت کر جائیں،
پھر اگر وہ خود (اپنی مرضی سی) نکل جائیں 
تو دستور کے مطابق جو کچھ بھی وہ اپنے حق میں کریں 
تم پر اس معاملے میں کوئی گناہ نہیں، 
اور ﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے

 

 


وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ
( 2:241 )
اور طلاق یافتہ عورتوں کو بھی مناسب طریقے سے خرچہ دیا جائے،
یہ پرہیزگاروں پر واجب ہے

 

 


يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا 
( 65:1 )
اے نبی! (مسلمانوں سے فرما دیں)
جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو 
تو اُن کے طُہر کے زمانہ میں انہیں طلاق دو 
اور عِدّت کو شمار کرو، 
اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے،
اور انہیں اُن کے گھروں سے باہر مت نکالو 
اور نہ وہ خود باہر نکلیں 
سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کر بیٹھیں،
اور یہ اللہ کی (مقررّہ) حدیں ہیں،
اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے 
تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے،
(اے شخص!) تو نہیں جانتا 
شاید اللہ اِس کے (طلاق دینے کے) بعد (رجوع کی) کوئی نئی صورت پیدا فرما دے

 

 


فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا
( 65:2 )
پھر جب وہ اپنی میعاد (یعنی انقضائے عدت) کے قریب پہنچ جائیں
تو یا تو ان کو اچھی طرح (زوجیت میں) رہنے دو 
یا اچھی طرح سے علیحدہ کر دو 
اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ کر لو 
اور (گواہ ہو!) خدا کے لئے درست گواہی دینا۔
ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے
جو خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔
اور جو کوئی خدا سے ڈرے گا 
وہ اس کے لئے (رنج ومحن سے) مخلصی (کی صورت) پیدا کرے گا

 

 


كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ 
( 2:242 )
اسی طرح ﷲ تمہارے لئے اپنے احکام واضح فرماتا ہے
تاکہ تم سمجھ سکو

 


 Good posting [] December 29, 2011 12:11:26 PM
rain_bow
karachi, Pakistan
Member since February 2011
View Profile View Blog Send Message
Very good  posting


  More Topics
 
  Hot Topics