بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ وَاللاَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا
( 4:34 )
مرد عورتوں پر محافظ و منتظِم ہیں
اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے
اور اس وجہ سے (بھی) کہ مرد (ان پر) اپنے مال خرچ کرتے ہیں،
پس نیک بیویاں اطاعت شعار ہوتی ہیں شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں،
اور تمہیں جن عورتوں کی نافرمانی و سرکشی کا اندیشہ ہو
تو انہیں نصیحت کرو
اور (اگر نہ سمجھیں تو) انہیں خواب گاہوں میں (خود سے) علیحدہ کر دو
اور (اگر پھر بھی اصلاح پذیر نہ ہوں تو) انہیں (تادیباً ہلکا سا) مارو،
پھر اگر وہ تمہاری فرمانبردار ہو جائیں
تو ان پر (ظلم کا) کوئی راستہ تلاش نہ کرو،
بیشک اللہ سب سے بلند سب سے بڑا ہے
وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُواْ حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلاَحًا يُوَفِّقِ اللّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا
( 4:35 )
اور اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان مخالفت کا اندیشہ ہو
تو تم ایک مُنصِف مرد کے خاندان سے
اور ایک مُنصِف عورت کے خاندان سے مقرر کر لو،
اگر وہ دونوں (مُنصِف) صلح کرانے کا اِرادہ رکھیں
تو اللہ ان دونوں کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا،
بیشک اللہ خوب جاننے والا خبردار ہے
لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَآؤُوا فَإِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
( 2:226 )
پھر جو لوگ اپنی عورتوں کو چھوڑنے کا ارادہ کر لیں
ان کو چار مہینے تک انتظار علیحدگی کا دورانیہ کرنا ہے ۔
اگر (اس عرصے میں سے) رجوع کر لیں
تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
وَإِنْ عَزَمُواْ الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
( 2:227 )
اور اگر انہوں نے طلاق کا پختہ ارادہ کر لیا ہو
تو بیشک ﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ وَلاَ يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُواْ إِصْلاَحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكُيمٌ
( 2:228 )
اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں،
اور ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اسے چھپائیں جو ﷲ نے ان کے رحموں میں پیدا فرما دیا ہو،
اگر وہ ﷲ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں،
اور اس مدت کے اندر ان کے شوہروں کو انہیں (پھر) اپنی زوجیت میں لوٹا لینے کا حق زیادہ ہے اگر وہ اصلاح کا ارادہ کر لیں،
اور دستور کے مطابق عورتوں کے بھی مردوں پر اسی طرح حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر،
البتہ مردوں کو ان پر فضیلت ہے،
اور ﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے
الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُواْ مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلاَّ أَن يَخَافَا أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللّهِ فَلاَ تَعْتَدُوهَا وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللّهِ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
( 2:229 )
طلاق (صرف) دو بار (تک) ہے
پھر یا تو (بیوی کو) اچھے طریقے سے (زوجیت میں) روک لینا ہے
یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے،
اور تمہارے لئے جائز نہیں
کہ جو چیزیں تم انہیں دے چکے ہو
اس میں سے کچھ واپس لو
سوائے اس کے
کہ دونوں کو اندیشہ ہو
کہ (اب رشتۂ زوجیت برقرار رکھتے ہوئے) دونوں ﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے،
پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں ﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے،
سو (اندریں صورت) ان پر کوئی گناہ نہیں
کہ بیوی (خود) کچھ بدلہ دے کر (اس تکلیف دہ بندھن سے) آزادی لے لے،
یہ ﷲ کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں،
پس تم ان سے آگے مت بڑھو
اور جو لوگ ﷲ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں سو وہی لوگ ظالم ہیں
فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
( 2:230 )
پھر اگر شوہر (خاوند کے ہاتھ کچھ دے کر رہائی چاہنے والی : حق مہر چھوڑ کر ) عورت کو طلاق دے دے
تو اس کے بعد جب تک عورت ( خلع لینے والی ) کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے
اس ( پہلے شوہر ) پر حلال نہ ہوگی۔
ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے
اور عورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں
تو ان پر کچھ گناہ نہیں
بشرطیکہ دونوں یقین کریں
کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے
اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے
جو دانش رکھتے ہیں